تحریر : ڈاکٹر فہیم نواز، ڈاکٹر سجاد احمد جان
ریسرچ فیلوز: ڈیولپمنٹ انسا ئٹس لیب
لے آؤٹ ڈیزائن: اکرام غنی
تاریخ اشاعت: 02 نومبر، 2023

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں اس وقت قریباً 37 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔
پاکستان میں عموماً یہ تاثر پایا جاتا ہے افغان مہاجرین پاکستانی معیشت پہ ایک بھاری بوجھ ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے اکثر جرائم میں بھی افغان شہری ملوث ہیں، جو کہ پاکستانی معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ ان تاثرات میں شدت تب پیدا ہوئی جب حال ہی میں پاکستان کی نگران وفاقی حکومت نے تمام غیر قانونی پناہ گزینوں، بشمول افغان مہاجرین کو یکم نومبر تک ملک سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن دی۔
کیا افغان مہاجرین واقعی پاکستانی معیشت پہ بوجھ ہیں؟
اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لئے ڈیولپمنٹ انسائٹس لیب نے پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین اور ان کی معاشی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلی اعدادوشمار مرتب کیے ہیں۔
یو این ایچ سی آر کے 30 جون 2023 کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 37 لاکھ افغان شہری ریائش پذیر ہیں جن میں قریباً تیرہ لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں جبکہ دیگر غیر رجسٹرڈ مہاجرین کے طور پہ قیام پذیر ہیں۔

پاکستان میں قیام پذیر افغان مہاجرین کا سب سے بڑا حصہ خیبر پختونخواہ میں آباد ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کا تناسب درج ذیل ہے۔

پاکستان میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کا ایک بڑا حصہ پشتونوں پہ مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں، تاجک، ازبک، اور ہزارہ سمیت دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افغان شہری بھی بطور مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں۔

پاکستان میں آباد افغانوں کا ایک بڑا حصہ کام کاج کرنے کے قابل افراد پہ مشتمل ہے۔عمومی طور پہ 15 اور 64 سال کی عمر کے درمیان افراد کو کام کاج کے قابل سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان میں آباد افغان مہاجرین کی کُل آبادی کا تقریباً آدھا حصہ کام کاج کرنے کے قابل عمر رکھتا ہے، جن میں 42.44 فیصد افراد یا تو کام کاج سے منسلک ہیں یا پھر مسلسل کام کی تلاش میں ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ کام کاج کی عمر رکھنے کے باوجود بے روزگار افغانوں کی اکثریت خواتین پہ مشتمل ہے جو کہ مختلف مسائل کی وجہ سے کام کے لئے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتی۔

اوپر دیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں آباد افغانوں کا ایک بڑا حصہ معاشی سرگرمیوں سے منسلک ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کی پاکستانی معیشت سے جُڑے افغان کس قسم کے روزگار میں مصروف ہیں؟
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں آباد زیادہ تر افغان دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ علاوہ ازیں، افغان مہاجرین کی خاطر خواہ تعداد تنخواہ دار اور چھوٹا موٹا ذاتی کاروبار چلانے والے طبقے سے بھی تعلق رکھتی ہے۔ افغانوں کی ایک چھوٹی تعداد بڑے کاروبار بھی رکھتی ہے جبکہ کچھ افراد خاندانی روزگار سے بلا معاوضہ بھی منسلک ہیں۔

پاکستان میں آباد برسر روزگار افغان مختلف صنعتوں سے جُڑے ہیں جن میں تنخواہ دار نوکری، پرچون دوکانداری اور تعمیرات سرفہرست ہیں۔

روزگار کے علاوہ افغان مہاجرین پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاری کرنے میں بھی سرگرم ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پچھلے تیس سالوں کے دوران افغان مہاجرین نے پاکستان میں تقریباً 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی۔ سرمایہ کاری کے علاہ افغان مہاجرین روزمرہ ضروریات پہ بھی ہر ماہ خاطر خواہ رقم خرچ کرکے معاشی سرگرمیوں کو تحریک دینے میں مدد کرتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں اس وقت قریباً 37 لاکھ کے قریب افغان مہاجرین رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان میں آباد ایک اوسط افغان گھرانہ تقریباً سات افراد پہ مشتمل ہے۔ اس حساب سے پاکستان میں افغان مہاجرین کے تقریباً پانچ لاکھ گھرانے آباد ہیں۔ ان میں سے ایک گھرانہ اپنی روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے پہ قریباً 21,631 روپیہ ماہانہ بنیاد پہ خرچتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں آباد تمام افغان مہاجرین ہر مہینے اپنی ضروریات پہ تقریباً گیارہ ارب روپے خرچ کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستانی حکومت کی طرف سے روزمرہ استعمال کی اشیاء پہ 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہے۔ با الفاظ دیگر، پاکستان میں رہائش پذیر تمام افغان مہاجرین ماہانہ دو ارب روپے حکومت کو سیلز ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں۔ یعنی ہر افغان گھرانہ ماہانہ3,894 روپے سیلز ٹیکس کی مد میں پاکستانی حکومت کو ادا کرتا ہے۔ سیلز ٹیکس افغان گھرانوں کی طرف سے ایک گراں قدر ادائیگی ہے کیونکہ اپنے معاملات چلانے کے لئے درکار رقم کے لئے پاکستانی حکومت زیادہ تر سیلز ٹیکس جیسے بالواستہ محصولات پہ انحصار کرتی ہے۔ سال 2023 کے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق پاکستانی حکومت کے محصولات کا 60 فیصد حصہ بالواسطہ ٹیکسوں پہ مشتمل ہے۔
محصولات کے علاوہ افغان مہاجرین پاکستان کے اندر دیگر ممالک سے زرمبادلہ لانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان میں آباد دس فیصد افغان گھرانے دیگر ممالک سے فی گھرانہ تقریباً 1,903 روپے کے برابر ماہانہ زرمبادلہ وصول کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ 51,389 یعنی تمام افغان مہاجرین کے دس فیصد گھرانے قریباً دس کروڑ پاکستانی روپے کے برابر زرمبادلہ وصول کرتے ہیں۔ یہ شماریات اس دعوے کی نفی کرتے نظر آتے ہیں کہ افغان مہاجرین پاکستانی معیشت پہ بوجھ ہیں۔
افغان مہاجرین کی صورت میں پاکستانی معیشت کو کم اجرت پہ مزدور میسر آتے ہیں جس سے مختلف شعبوں میں پیداواری لاگت میں کمی ہوتی ہے اور وافر مقدار میں اشیاء کی فراہمی میں مدد ملتی ہے۔ پاکستان میں آباد افغان مہاجرین کوڑا چننے اور ری سائیکلنگ جیسے پُر خطر اور غیر صحت مند پیشوں سے بھی وابستہ ہے جو کہ ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے لئے بھی انتہائی اہم ہیں۔ علاوہ ازیں، افغان مہاجرین سرمایہ کاری، زرمبادلہ، اور روزمرہ اخراجات کی مد میں خرچ کی گئی رقم کے زریعے بھی پاکستانی معیشت کی بڑھوتری میں گراں قدر کردار ادا کرتے ہیں۔
جہاں افغان مہاجرین کے پاکستانی معیشت پہ مثبت اثرات سے انکار ممکن نہیں، وہاں یہ حقیقت بھی قابل ذکر ہے کہ افغان مہاجرین پاکستانی سرکار کی طرف سے فراہم کردہ صحت اور تعلیم جیسی سہولیات پہ دباؤ بڑھانے کا سبب بھی بنتے ہیں۔ اس دباؤ کی ایک اہم وجہ پاکستانی حکومت کا بجٹ سازی کے دوران پاکستان میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی آبادی کو بالواسطہ محصولات ادا کرنے کے باوجود نظر انداز کرنا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی حکومت ملک میں آباد افغان مہاجرین کے اندراج اور قانونی رہائش کے لئے درکار کاغذات و طریقہ کار کے عمل کو سہل اور شفاف بنائے۔ اس کے نتیجے میں افغان مہاجرین کو پاکستانی معیشت سے جڑنے میں مدد ملے گی۔ نتیجتاً، پاکستانی حکومت کے لئے انھیں ٹیکس نیٹ میں لانے میں آسانی ہوگی جو ریاستی محصولات کی بڑھوتری اور ملکی معیشت کی ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔ محصولات بڑھنے سے حکومت صحت اور تعلیم کے ساتھ ساتھ پولیس جیسے شعبوں پہ بھی زیادہ خرچ کرسکے گی جس سے جرائم کی بیخ کنی اور معاشرتی و انسانی ترقی میں مدد ملے گی۔
***
اس رپورٹ کو مرتب کرنے کے لئے درکار اعداد و شمار اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) اور سیفران کی پاپولیشن پروفائلنگ
رپورٹ سے لئے گئے ہیں۔
اس رپورٹ کو یہاں سے ڈاونلوڈ کریں
Great work sir 👏
Top accredited online schools for higher education
Find your ideal fit at accredited online schools
Boost your education at accredited online schools
Discover the advantages of accredited online schools
Upgrade your expertise at accredited online schools
Take your education to the next level with accredited online schools
Explore the choices at accredited online schools
Accredited online schools: Your path to success
Achieve your aspirations with accredited online schools
Turn your interest into a degree at accredited online schools
Be part of a respected community at accredited online schools
Unleash your capabilities with accredited online schools
Join the thousands who have benefited from accredited online schools
Secure your future with accredited online schools
Accredited online schools: Your key to a brighter future
Get accessible education at accredited online schools
Accredited online schools: Where excellence meets convenience
Empower yourself with accredited online schools
Elevate your career with accredited online schools
Accredited online schools https://www.umpirebook.com.
Hey people!!!!!
Good mood and good luck to everyone!!!!!
Hey people!!!!!
Good mood and good luck to everyone!!!!!
Hey people!!!!!
Good mood and good luck to everyone!!!!!